كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ لباس اور زینت کے احکام

حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وعثمان بن ابي شيبة ، واللفظ لإسحاق، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله ، قال: " لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله "، قال: فبلغ ذلك امراة من بني اسد يقال لها ام يعقوب، وكانت تقرا القرآن فاتته، فقالت: ما حديث بلغني عنك انك لعنت الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله، فقال عبد الله: وما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله، فقالت المراة: لقد قرات ما بين لوحي المصحف فما وجدته، فقال: لئن كنت قراتيه لقد وجدتيه، قال الله عز وجل وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا سورة الحشر آية 7 فقالت المراة: فإني ارى شيئا من هذا على امراتك الآن، قال: اذهبي فانظري، قال: فدخلت على امراة عبد الله فلم تر شيئا، فجاءت إليه، فقالت: ما رايت شيئا، فقال: اما لو كان ذلك لم نجامعها.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لعنت کی اللہ نے گودنے والیوں اور گدانے والیوں پر اور منہ کے بال نکالنے والیوں پر اور نکلوانے والیوں پر اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر خوبصورتی کے لیے (تاکہ کمسن معلوں ہوں) اللہ کی خلقت بدلنے والیوں پر، پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کا نام ام یعقوب تھا، وہ قرآن پڑھا کرتی تھی، وہ آئی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور بولی: مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ آپ نے لعنت کی گودنے اور گدانے اور منہ کے بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے اور دانتوں کو کشادہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں کیوں لعنت نہ کروں اس پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ کی کتاب میں موجود ہے، وہ عورت بولی میں تو دو جلدوں میں جس قدر پر قرآن تھا پڑھ ڈالا مجھے نہیں ملا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو پڑھتی (جیسا چاہیے تھا غور کر کے) تو تجھ کو ملتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» ۹-الحشر:۷) جو رسول تم کو بتلا دے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ وہ عورت بولی ان باتوں میں سے بعض بات تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جا دیکھ، وہ گئی ان کی عورت کے پاس تو کچھ نہ پایا پھر لوٹ آئی اور کہنے لگی: ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ ایسا کرتی تو ہم اسے سے صحبت نہ کرتے۔

صحيح مسلم # 5573
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp