كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ لباس اور زینت کے احکام

قال: فاتيت عائشة ، فقلت: إن هذا يخبرني، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تماثيل "، فهل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر ذلك؟، فقالت: لا، ولكن ساحدثكم ما رايته، فعل رايته خرج في غزاته، فاخذت نمطا، فسترته على الباب، فلما قدم فراى النمط عرفت الكراهية في وجهه، فجذبه حتى هتكه او قطعه، وقال: " إن الله لم يامرنا ان نكسو الحجارة والطين "، قالت: فقطعنا منه وسادتين، وحشوتهما ليفا فلم يعب ذلك علي.

‏‏‏‏ زید نے کہا: میں یہ سن کر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے جو دیکھا ہے تجھ سے بیان کرتی ہوں۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کو تشریف لے گئے میں نے ایک چادر لی اور اس کو دروازے پر لٹکا دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر آئے اور چادر دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھینچا یہاں تک کہ پھاڑ ڈالا اور کاٹ ڈالا اس کو۔ بعد اس کے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم نہیں دیا پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم نے اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا ڈالے اور ان کے اندر کھجور کی چھال بھری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب نہیں کیا۔

صحيح مسلم # 5520
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp