حدثني سويد بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم ، عن ابيه ، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن ، عن عائشة انها، قالت: واعد رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل عليه السلام في ساعة ياتيه فيها، فجاءت تلك الساعة ولم ياته، وفي يده عصا، فالقاها من يده، وقال: " ما يخلف الله وعده ولا رسله " ثم التفت فإذا جرو كلب تحت سريره، فقال يا عائشة: " متى دخل هذا الكلب هاهنا؟ "، فقالت: والله ما دريت، فامر به فاخرج، فجاء جبريل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " واعدتني فجلست لك فلم تات "، فقال: " منعني الكلب الذي كان في بيتك إنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جبرائیل علیہ السلام نے وعدہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے کا اس وقت میں پھر وہ وقت آ گیا اور جبرئیل علیہ السلام نہ آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا نہ اس کے ایلچی وعدہ خلافی کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر اُدھر دیکھا تو ایک پلہ کتے کا تخت کے تلے دکھلائی دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ پلہ کب آیا اس جگہ۔“ انہوں نے کہا: قسم اللہ تعالیٰ کی مجھ کو خبر نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ باہر نکالا گیا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں تمہارے انتظار میں بیٹھا تھا لیکن تم نہیں آئے۔“ انہوں نے کہا: یہ کتا جو آپ کے گھر میں تھا اس نے مجھ کو روک رکھا تھا۔ ہم اس گھر میں نہیں جاتے جس کے اندر کتا ہو یا تصویر۔