كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ لباس اور زینت کے احکام

حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس ، حدثنا زهير ، حدثنا عاصم الاحول ، عن ابي عثمان ، قال: كتب إلينا عمر ونحن باذربيجان، يا عتبة بن فرقد، إنه ليس من كدك ولا من كد ابيك ولا من كد امك، فاشبع المسلمين في رحالهم مما تشبع منه في رحلك، وإياكم والتنعم وزي اهل الشرك ولبوس الحرير، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم " نهى عن لبوس الحرير، قال: إلا هكذا ورفع لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إصبعيه الوسطى والسبابة وضمهما "، قال زهير: قال عاصم: هذا في الكتاب، قال: ورفع زهير إصبعيه.

‏‏‏‏ سیدنا ابوعثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم کو لکھا ہم آذربائیجان میں تھے (وہ ایک ملک ہے ایران میں) اے عتبہ بن فرقد! یہ جو مال تیرے پاس ہے نہ تیرا کمایا ہوا ہے، نہ تیرے باپ کا، نہ تیری ماں کا، تو سیر کر مسلمانوں کو ان کے ٹھکانوں میں جیسے تو سیر ہوتا ہے اپنے ٹھکانے میں (یعنی بغیر طلب کے ان کو پہنچا دے) اور بچو تم عیش کرنے سے اور مشرکوں کی وضع سے اور ریشمی کپڑا پہننے سے مگر اتنا اور اٹھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور کلمہ کی انگلی کو اور ملا لیا ان کو۔ (یعنی دو انگل حریر اگر حاشیہ میں یا اور کہیں لگا ہو تو درست ہے)۔

صحيح مسلم # 5411
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp