حدثنا يحيي بن يحيي ، اخبرنا خالد بن عبد الله ، عن عبد الملك ، عن عبد الله مولى اسماء بنت ابي بكر، وكان خال ولد عطاء، قال: ارسلتني اسماء إلى عبد الله بن عمر، فقالت: بلغني انك تحرم اشياء ثلاثة العلم في الثوب، وميثرة الارجوان، وصوم رجب كله، فقال لي عبد الله : اما ما ذكرت من رجب فكيف بمن يصوم الابد؟ واما ما ذكرت من العلم في الثوب، فإني سمعت عمر بن الخطاب ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إنما يلبس الحرير من لا خلاق له "، فخفت ان يكون العلم منه، واما ميثرة الارجوان فهذه ميثرة عبد الله، فإذا هي ارجوان، فرجعت إلى اسماء فخبرتها، فقالت: هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخرجت إلي جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج، وفرجيها مكفوفين بالديباج فقالت: هذه كانت عند عائشة، حتى قبضت، فلما قبضت قبضتها، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو مولیٰ تھے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے اور ماموں تھے عطاء کے لڑکے کے، اس نے کہا: مجھ کو اسماء نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے تم حرام کہتے ہو تین چیزوں کو: ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں۔ دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو۔ تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا جو شخص ہمیشہ روزے رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ باستثناء عیدین اور ایام تشرق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دھر مکروہ نہیں ہے) اور کپڑے کے ریشمی نقوشوں کا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”حریر وہ پہنے گا جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔“ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ رضی اللہ عنہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے ایک جبہ نکالا کالی چادروں کا ان کی کسروانی (منسوب ہے طرف کسریٰ کی یعنی بادشاہ فارس کی) جس کا گریبان دیباج کا تھا اور اس کے دامنوں پر سنجاف تھے دیباج کے) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا ان کی وفات تک۔ جب وہ مر گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے ہیں شفا کے لیے (سنجاف حریر یعنی ریشم کی چار انگل تک درست ہے اس سے زیادہ حرام ہے جیسے دوسری حدیث میں آتا ہے۔ (نووی رحمتہ اللہ علیہ)۔