كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ لباس اور زینت کے احکام

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا يحيي بن سعيد ، عن شعبة ، اخبرني ابو بكر بن حفص ، عن سالم ، عن ابن عمر ، ان عمر راى على رجل من آل عطارد قباء من ديباج او حرير، فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: لو اشتريته، فقال: " إنما يلبس هذا من لا خلاق له "، فاهدي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، فارسل بها إلي، قال: قلت ارسلت بها إلي وقد سمعتك قلت فيها ما قلت، قال: " إنما بعثت بها إليك لتستمتع بها ".

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو عطارد کی اولاد میں سے قبا پہنے دیکھا دیباج کا یا حریر کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ اس کو خرید لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جوڑا تحفہ میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میرے پاس بھیج دیا۔ میں نے عرض کیا، یہ جوڑا آپ نے مجھے بھیجا اور میں تو سن چکا ہوں جو آپ نے اس کے باب میں فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس لیے بھیجا کہ تو اس سے فائدہ اٹھائے (بیچ کر)۔

صحيح مسلم # 5406
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp