كِتَاب الْأَشْرِبَةِ مشروبات کا بیان

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا شبابة بن سوار ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى ، عن المقداد ، قال: اقبلت انا وصاحبان لي، وقد ذهبت اسماعنا وابصارنا من الجهد، فجعلنا نعرض انفسنا على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فليس احد منهم يقبلنا، فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم، فانطلق بنا إلى اهله، فإذا ثلاثة اعنز، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " احتلبوا هذا اللبن بيننا "، قال: فكنا نحتلب، فيشرب كل إنسان منا نصيبه، ونرفع للنبي صلى الله عليه وسلم نصيبه، قال: فيجيء من الليل، فيسلم تسليما لا يوقظ نائما ويسمع اليقظان، قال: ثم ياتي المسجد فيصلي ثم ياتي شرابه فيشرب، فاتاني الشيطان ذات ليلة وقد شربت نصيبي، فقال محمد: ياتي الانصار فيتحفونه ويصيب عندهم ما به حاجة إلى هذه الجرعة، فاتيتها فشربتها، فلما ان وغلت في بطني وعلمت انه ليس إليها سبيل، قال: ندمني الشيطان، فقال: ويحك ما صنعت اشربت شراب محمد؟ فيجيء فلا يجده فيدعو عليك فتهلك، فتذهب دنياك وآخرتك، وعلي شملة إذا وضعتها على قدمي خرج راسي، وإذا وضعتها على راسي خرج قدماي، وجعل لا يجيئني النوم، واما صاحباي فناما ولم يصنعا ما صنعت، قال: فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فسلم كما كان يسلم ثم اتى المسجد فصلى ثم اتى شرابه فكشف عنه فلم يجد فيه شيئا، فرفع راسه إلى السماء، فقلت: الآن يدعو علي فاهلك، فقال: " اللهم اطعم من اطعمني واسق من اسقاني "، قال: فعمدت إلى الشملة فشددتها علي واخذت الشفرة، فانطلقت إلى الاعنز ايها اسمن، فاذبحها لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا هي حافلة وإذا هن حفل كلهن، فعمدت إلى إناء لآل محمد صلى الله عليه وسلم ما كانوا يطمعون ان يحتلبوا فيه، قال: فحلبت فيه حتى علته رغوة، فجئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " اشربتم شرابكم الليلة؟ "، قال: قلت: يا رسول الله اشرب، فشرب ثم ناولني، فقلت: يا رسول الله اشرب، فشرب ثم ناولني، فلما عرفت ان النبي صلى الله عليه وسلم قد روي واصبت دعوته، ضحكت حتى القيت إلى الارض، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " إحدى سوآتك يا مقداد "، فقلت: يا رسول الله كان من امري كذا وكذا وفعلت كذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ما هذه إلا رحمة من الله افلا كنت آذنتني فنوقظ صاحبينا فيصيبان منها؟ "، قال: فقلت: والذي بعثك بالحق ما ابالي إذا اصبتها واصبتها معك من اصابها من الناس.

‏‏‏‏ سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ہمارے کانوں اور آنکھوں کی قوت جاتی رہی تھی تکلیف سے (فاقہ وغیرہ کے) ہم اپنے تئیں پیش کرتے تھے آپ کے اصحاب پر کوئی ہم کو قبول نہ کرتا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے گھر لے گئے، وہاں تین بکریاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا دودھ دوہو ہم تم سب پیئں گے۔ پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہر ایک ہم میں سے اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے اور نماز پڑھتے، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے، ایک رات شیطان نے مجھ کو بھڑکایا، میں اپنا حصہ پی چکا تھا۔ شیطان نے یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں وہ آپ کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ کو احتیاج ہوتی ہے وہ مل جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گھونٹ دودھ کی کیا احتیاج ہو گی۔ آخر میں آیا وہ دودھ پی گیا۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا۔ اس وقت شیطان نے مجھ کو ندامت دی اور کہنے لگا: خرابی ہو تیری تو نے کیا کام کیا، تو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا۔ اب وہ آئیں گے اور دودھ نہ پائیں گے پھر تجھ پر بددعا کریں گے، تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی میں ایک چادر اوڑھے تھا۔ جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے اور نیند بھی مجھ کو نہ آئی۔ میرے ساتھی سو گئے، انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی بعد اس کے دودھ کے پاس آئے برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور تو تباہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کھلا اس کو جو مجھ کو کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا اور چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو ذبح کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا تھا پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے (یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہ کرتے تھے) اس میں میں نے دودھ دوہا یہاں تک کہ اوپر پھین آ گیا (اتنا زیادہ دودھ نکلا) اور اس کو میں لے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے حصہ کا دودھ رات کو پیا یا نہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر مجھے دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور پیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا۔ پھر مجھے دیا جب مجھ کو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی۔ اس وقت میں ہنسا یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر لوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی وہ کیا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا میں نے ایسا قصور کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت کا دودھ جو خلاف معمول اترا اللہ کی رحمت تھی تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا۔ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی دودھ پیتے۔ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس کی جس نے آپ کو سچا کلام دے کر بھیجا اب مجھ کو کوئی پروا نہیں جب میں نے اللہ کی رحمت حاصل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی کہ کوئی بھی اس کو حاصل کرے۔

صحيح مسلم # 5362
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp