حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا وكيع ، عن فضيل بن غزوان ، عن ابي حازم ، عن ابي هريرة ، ان رجلا من الانصار بات به ضيف، فلم يكن عنده إلا قوته وقوت صبيانه، فقال لامراته: " نومي الصبية واطفئ السراج وقربي للضيف ما عندك، قال: فنزلت هذه الآية ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة سورة الحشر آية 9 ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک انصاری کے پاس مہمان آیا اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ سوائے اس کے اور اس کے بچوں کے کھانے کے، اس نے اپنی عورت سے کہا: بچوں کو سلا دے اور چراغ بجھا دے اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ مہمان کے سامنے رکھ دے۔ اس نے ایسا ہی کیا تب یہ آیت اتری «وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ» (۵۹-الحشر:۹) ”یعنی اپنی راحت پر دوسروں کے آرام کو مقدم رکھتے ہیں گو خود محتاج ہوں۔“