كِتَاب الْأَشْرِبَةِ مشروبات کا بیان

وحدثني حجاج بن الشاعر ، واحمد بن سعيد بن صخر ، واللفظ منهما قريب، قالا: حدثنا ابو النعمان ، حدثنا ثابت ، في رواية حجاج بن يزيد ابو زيد الاحول، حدثنا عاصم بن عبد الله بن الحارث ، عن افلح مولى ابي ايوب، عن ابي ايوب : ان النبي صلى الله عليه وسلم نزل عليه، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم في السفل وابو ايوب في العلو، قال: فانتبه ابو ايوب ليلة، فقال: نمشي فوق راس رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتنحوا فباتوا في جانب، ثم قال للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " السفل ارفق "، فقال: لا اعلو سقيفة انت تحتها، فتحول النبي صلى الله عليه وسلم في العلو، وابو ايوب في السفل، فكان يصنع للنبي صلى الله عليه وسلم طعاما، فإذا جيء به إليه سال عن موضع اصابعه، فيتتبع موضع اصابعه، فصنع له طعاما فيه ثوم، فلما رد إليه سال عن موضع اصابع النبي صلى الله عليه وسلم، فقيل له لم ياكل ففزع، وصعد إليه، فقال: احرام هو؟، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا ولكني اكرهه "، قال: فإني اكره ما تكره او ما كرهت. قال: وكان النبي صلى الله عليه وسلم يؤتى.

‏‏‏‏ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ایک بار ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے۔ بعد اس کے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیچے کا مکان آرام کا ہے۔ (رہنے والوں کے لیے اور آنے والوں کے واسطے اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہتے ہیں)۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ رہے۔ سیدنا ابوایوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے پھر جب کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے بعد اس کے بچا ہوا کھانا واپس جاتا) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ (آدمی سے) پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے پر کس جگہ پر لگی ہیں وہیں سے وہ کھاتے (برکت کے لیے) ایک بار سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا جس میں لہسن تھا جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں۔ لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرائے اور اوپر گئے اور پوچھا: کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن مجھے بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ کو بری معلوم ہوتی ہے مجھے بھی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتے آتے ہیں (اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی۔ اس واسطے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے)۔

صحيح مسلم # 5358
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp