حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، عن يونس ، عن ابن شهاب ، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن ، عن جابر بن عبد الله ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بمر نجني الكباث، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " عليكم بالاسود منه "، قال: فقلنا: يا رسول الله، كانك رعيت الغنم؟، قال: " نعم وهل من نبي إلا وقد رعاها " او نحو هذا من القول.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مرالظہران میں (جو مکہ سے ایک منزل پر ہے) اور ہم «كباث» چن رہے تھے ( «كباث» کہتے ہیں راک کے پھل کو اور راک ایک جنگلی درخت ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ دیکھ کر چنو۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرائی ہیں۔ (تبی تو جنگل کا حال معلوم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔“