كِتَاب الْأَشْرِبَةِ مشروبات کا بیان

وحدثني حرملة بن يحيي التجيبي ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني اسامة ، ان يعقوب بن عبد الله بن ابي طلحة الانصاري ، حدثه، انه سمع انس بن مالك ، يقول: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فوجدته جالسا مع اصحابه يحدثهم وقد عصب بطنه بعصابة، قال اسامة: وانا اشك على حجر، فقلت: لبعض اصحابه لم عصب رسول الله صلى الله عليه وسلم بطنه؟، فقالوا: من الجوع، فذهبت إلى ابي طلحة وهو زوج ام سليم بنت ملحان، فقلت يا ابتاه: قد رايت رسول الله عصب بطنه بعصابة، فسالت بعض اصحابه، فقالوا: من الجوع، فدخل ابو طلحة على امي، فقال: هل من شيء؟، فقالت: نعم عندي كسر من خبز وتمرات، فإن جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وحده اشبعناه، وإن جاء آخر معه، قل عنهم ثم ذكر سائر الحديث بقصته.

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن آیا۔ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہیں اور پیٹ پر ایک پٹی باندھے ہیں۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ پتھر کا بھی ذکر کیا یا نہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے پوچھا: یہ پٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں باندھی ہے؟ اس نے کہا: بھوک کی وجہ سے میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ خاوند تھے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے جو ملحان کی بیٹی تھی اور میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ نے اپنے پیٹ پر ایک پٹی باندھی ہے۔ میں نے آپ کے ایک صحابی سے پوچھا تو اس نے کہا: بھوک کی وجہ سے باندھی ہے۔ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری ماں کے پاس گئے اور پوچھا: تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ وہ بولی: ہاں کچھ ٹکرے ہیں روٹی کے اور کچھ کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ کو پیٹ بھر کر کھلا سکتے ہیں اور جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تو کھانا کم پڑے گا۔ پھر بیان کیا حدیث کو پورے قصہ کے ساتھ۔

صحيح مسلم # 5323
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp