كِتَاب الْأَشْرِبَةِ مشروبات کا بیان

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن احمد بن ابي خلف ، واللفظ لابن ابي خلف، قالا: حدثنا زكرياء بن عدي ، حدثنا عبيد الله وهو ابن عمرو ، عن زيد بن ابي انيسة ، عن سعيد بن ابي بردة ، حدثنا ابو بردة ، عن ابيه ، قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعاذا إلى اليمن، فقال: " ادعوا الناس وبشرا ولا تنفرا ويسرا ولا تعسرا "، قال: فقلت: يا رسول الله، افتنا في شرابين كنا نصنعهما باليمن البتع، وهو من العسل ينبذ حتى يشتد والمزر، وهو من الذرة والشعير ينبذ حتى يشتد، قال: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اعطي جوامع الكلم بخواتمه، فقال: " انهى عن كل مسكر اسكر عن الصلاة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: بلاؤ لوگوں کو (اسلام کی طرح) اور خوش رکھو ان کو نفرت مت دلاؤ اور آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کو فتویٰ دیجئیے، ان شرابوں میں جن کو ہم بنایا کرتے تھے۔ یمن میں ایک تو بتع کی شہد سے بنتی ہے جب وہ جھاگ مارنے لگے دوسری مزر جو جوار یا جو ہوتی ہے اس کو بھگوتے ہیں یہاں تک کہ تیز ہو جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے وہ باتیں دی تھیں جن میں لفظ تھوڑے ہوں اور معنی بہت ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں منع کرتا ہوں ہر نشہ والی شراب سے جو باز رکھے نماز سے۔

صحيح مسلم # 5216
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp