وحدثني ابو بكر بن إسحاق ، اخبرنا سعيد بن كثير بن عفير ابو عثمان المصري ، حدثنا عبد الله بن وهب ، حدثني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، اخبرني علي بن حسين بن علي ، ان حسين بن علي اخبره، ان عليا ، قال: " كانت لي شارف من نصيبي من المغنم يوم بدر، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاني شارفا من الخمس يومئذ، فلما اردت ان ابتني بفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع يرتحل معي، فناتي بإذخر اردت ان ابيعه من الصواغين، فاستعين به في وليمة عرسي، فبينا انا اجمع لشارفي متاعا من الاقتاب والغرائر والحبال وشارفاي مناخان إلى جنب حجرة رجل من الانصار وجمعت حين جمعت ما جمعت، فإذا شارفاي قد اجتبت اسنمتهما وبقرت خواصرهما واخذ من اكبادهما، فلم املك عيني حين رايت ذلك المنظر منهما، قلت: من فعل هذا؟، قالوا: فعله حمزة بن عبد المطلب وهو في هذا البيت في شرب من الانصار غنته قينة واصحابه، فقالت في غنائها: الا يا حمز للشرف النواء؟، فقام حمزة بالسيف فاجتب اسنمتهما وبقر خواصرهما، فاخذ من اكبادهما، فقال علي: فانطلقت حتى ادخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة، قال: فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجهي الذي لقيت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك؟، قلت: يا رسول الله، والله ما رايت كاليوم قط عدا حمزة على ناقتي فاجتب اسنمتهما وبقر خواصرهما وههو ذا في بيت معه شرب، قال فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بردائه فارتداه ثم انطلق يمشي واتبعته انا وزيد بن حارثة حتى جاء الباب الذي فيه حمزة، فاستاذن فاذنوا له، فإذا هم شرب فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوم حمزة فيما فعل، فإذا حمزة محمرة عيناه، فنظر حمزة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صعد النظر إلى ركبتيه ثم صعد النظر فنظر إلى سرته ثم صعد النظر فنظر إلى وجهه، فقال حمزة: وهل انتم إلا عبيد لابي، فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ثمل، فنكص رسول الله صلى الله عليه وسلم على عقبيه القهقرى وخرج وخرجنا معه ".
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بدر کی لوٹ میں سے ایک اونٹنی ملی اور اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے ایک اونٹنی مجھے دی، پھر جب میں نے چاہا کہ شادی کروں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے جو صاحبزادی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، تو میں نے وعدہ کیا کہ ایک سنار سے بنی قینقاع کے ہمراہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں ولیمہ کروں اپنی شادی کا، تو میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان اکٹھا کر رہا تھا پالان، رکابیں، رسیاں اور وہ دونوں بیٹھیں تھیں ایک انصاری کی کوٹھڑی کے بازو۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکھٹا کرتا تھا اکھٹا کر چکا تھا، تو کیا دیکھتا ہوں دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں، مجھے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں (یعنی میں رونے لگا اور یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدنا فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی اس خیال سے تھا) میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے، اور وہ اس گھر میں ہیں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جو شراب پی رہے ہیں ان کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا اور ان کے ساتھیوں نے، تو گانے میں کہا: اے حمزہ! اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو لے، اسی وقت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لیے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر (کلیجہ) نکال لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر میں چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا جو میرے منہ پر رنج تھا اور فرمایا: ”کیا ہوا تجھ کو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قسم اللہ کی آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ستم کیا ان کے کوہان کاٹ ڈالے، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں ہیں چند شرابیوں کے ساتھ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کو اوڑھا، پھر چلے پاپیادہ میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اجازت مانگی اندر آنے کی۔ لوگوں نے اجازت دی، دیکھا تو وہ شراب پیے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں سرخ تھیں۔ (نشے سے) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا، پھر کہا: تم ہو کیا میرے باپ دادوں کے غلام ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔