كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار ، واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت القاسم بن ابي بزة يحدث، عن ابي الطفيل ، قال: سئل علي اخصكم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء؟ فقال: ما خصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء لم يعم به الناس، كافة إلا ما كان في قراب سيفي هذا، قال: فاخرج صحيفة مكتوب فيها " لعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من سرق منار الارض، ولعن الله من لعن والده، ولعن الله من آوى محدثا ".

‏‏‏‏ ابوالطفیل سے روایت ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا آپ کو خاص بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات سے؟ انہوں نے کہا: ہم سے کوئی خاص بات نہیں فرمائی جو سب لوگوں سے نہ فرمایا ہو، البتہ چند باتیں ہیں جو میری تلوار کے غلاف میں ہیں، پھر انہوں نے کہا: کہ آپ نے ایک کاغذ نکالا جس میں لکھا تھا لعنت کی اللہ نے اس پر جو ذبح کرے جانور کو سوائے اللہ کے اور کسی کے لیے اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو زمین کی نشانی چرائے، اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو لعنت کرے اپنے باپ پر اور لعنت کی اللہ نے اس پر جو جگہ دے بدعتی کو (یعنی بدعتی کو اپنے گھر اتارے یا اس کی مدد کرے۔ معاذ اللہ! بدعت یعنی دین میں نئی بات نکالنا جس کی دلیل کتاب و سنت سے نہ ہو کتنا بڑا گناہ ہے جب بدعتی کے مددگار پر لعنت ہوئی تو خود بدعت نکالنے والے پر کتنی بڑی پھٹکار ہو گی اللہ بچائے)۔

صحيح مسلم # 5126
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp