حدثنا زهير بن حرب ، وسريج بن يونس كلاهما، عن مروان ، قال زهير : حدثنا مروان بن معاوية الفزاري ، حدثنا منصور بن حيان ، حدثنا ابو الطفيل عامر بن واثلة ، قال: كنت عند علي بن ابي طالب ، فاتاه رجل، فقال: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يسر إليك، قال: فغضب، وقال: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يسر إلي شيئا يكتمه الناس غير انه قد حدثني بكلمات اربع، قال: فقال: ما هن يا امير المؤمنين؟ قال: قال: " لعن الله من لعن والده، ولعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من آوى محدثا، ولعن الله من غير منار الارض ".
ابوالطفیل بن عامر بن واثلہ سے روایت ہے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو (علی رضی اللہ عنہ کو) چھپا کر بتلاتے تھے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصہ ہوئے اور کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز نہیں بتلائی جو اور لوگوں سے چھپائی ہو۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اور چار باتوں کو۔ وہ شخص بولا: وہ کیا ہیں؟ اے امیر المومنین! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا، فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”لعنت کرے اللہ اس پر جو لعنت کرے اپنے باپ پر، اور لعنت کرے اللہ اس پر جو ذبح کرے سوائے اللہ کے اور کسی کے لیے اور لعنت کرے اللہ اس پر جو جگہ دے کسی بدعتی کو اور لعنت کرے اللہ اس پر جو زمین کے نشان کو بدلے۔“