كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

حدثني الحسن بن علي الحلواني ، حدثنا ابو اسامة ، حدثني محمد بن عمرو ، حدثنا عمرو بن مسلم بن عمار الليثي ، قال: كنا في الحمام قبيل الاضحى، فاطلى فيه ناس، فقال: بعض اهل الحمام إن سعيد بن المسيب يكره هذا او ينهى عنه، فلقيت سعيد بن المسيب فذكرت ذلك له، فقال يا ابن اخي: هذا حديث قد نسي وترك. حدثتني ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعنى حديث معاذ عن محمد بن عمرو،

‏‏‏‏ سیدنا عمرو بن مسلم بن عمار لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم حمام میں تھے۔ عیدالاضحیٰ سے ذرا پہلے تو بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بالوں کو صاف کر لیا تو، بعض حمام والوں نے کہا کہ سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس کو مکروہ کہتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں پھر میں سعید بن المسّیب رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے بیان کیا انہوں نے کہا اے بھتیجے میرے! یہ تو حدیث کا مضمون ہے جس کو لوگوں نے بھلا دیا یا چھوڑ دیا مجھ سے حدیث بیان کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی جو اوپر گزرا۔

صحيح مسلم # 5122
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp