كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا سفيان ، حدثني عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف ، عن سعيد بن المسيب ، عن ام سلمة ترفعه، قال: " إذا دخل العشر وعنده اضحية يريد ان يضحي، فلا ياخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا ".

‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا عشرہ آ جائے اور قربانی موجود ہو جس کو وہ قربان کرنا چاہے تو بال نہ کترائے نہ ناخن تراشے۔

صحيح مسلم # 5118
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp