كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن المثنى العنزي ، حدثنا يحيي بن سعيد ، عن سفيان ، حدثني ابي ، عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج ، عن رافع بن خديج ، قلت: يا رسول الله، إنا لاقو العدو غدا وليست معنا مدى، قال صلى الله عليه وسلم: " اعجل او ارني ما انهر الدم وذكر اسم الله، فكل ليس السن والظفر وساحدثك اما السن فعظم، واما الظفر فمدى الحبشة "، قال: واصبنا نهب إبل وغنم فند منها بعير فرماه رجل بسهم فحبسه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن لهذه الإبل اوابد كاوابد الوحش، فإذا غلبكم منها شيء فاصنعوا به هكذا ".

‏‏‏‏ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میِں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کل دشمن سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہائے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا سوائے دانت اور ناخن کے اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ راوی نے کہا: ہم کو لوٹ میں ملے اونٹ اور بکری پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا وہ ٹھہر گیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں۔ جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو۔

صحيح مسلم # 5092
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp