كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

وحدثني احمد بن سعيد بن صخر الدارمي ، حدثنا ابو النعمان عارم بن الفضل ، حدثنا عبد الواحد يعني ابن زياد ، حدثنا عاصم الاحول ، عن الشعبي ، حدثني البراء بن عازب ، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم نحر، فقال: " لا يضحين احد حتى يصلي "، قال رجل: عندي عناق لبن هي خير من شاتي لحم، قال: " فضح بها ولا تجزي جذعة عن احد بعدك ".

‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ سنایا یوم النحر کو تو فرمایا: نماز سے پہلے کوئی قربانی نہ کرے۔ ایک شخص بولا: میرے پاس ایک دودھ والی (یعنی کمسن ابھی دودھ پیتی تھی) ایک برس سے کم کی بکری ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کی قربانی کر اور تیرے بعد پھر کسی کو جذعہ کی قربانی درست نہ ہو گی۔ (یعنی بکری کا جذعہ)۔

صحيح مسلم # 5076
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp