وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا زكرياء ، عن فراس ، عن عامر ، عن البراء ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من صلى صلاتنا ووجه قبلتنا ونسك نسكنا فلا يذبح حتى يصلي "، فقال خالي: يا رسول الله، قد نسكت عن ابن لي، فقال: " ذاك شيء عجلته لاهلك "، فقال: إن عندي شاة خير من شاتين، قال: " ضح بها فإنها خير نسيكة ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری طرح قربانی کرے (یعنی مسلمان ہو) وہ قربانی نہ کرے جب تک ہم نماز نہ پڑھ لیں۔“ میرے ماموں نے کہا: یا رسول اللہ! میں تو اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں تو نے جلدی کی اپنے گھر والوں کے لئے۔“ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے پاس ایک بکری ہے جو دو بکریوں سے بہتر ہے۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے معلوم ہوا کہ قربانی میں گوشت کی کثرت افضل نہیں ہے بلکہ گوشت کی عمدگی، تو ایک فربہ بکری دو دبلی بکریوں سے بہتر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر اس کی وہ تیری دونوں قربانیوں میں سے بہتر ہے۔“