حدثنا يحيي بن يحيي ، اخبرنا هشيم ، عن داود ، عن الشعبي ، عن البراء بن عازب ، ان خاله ابا بردة بن نيار ذبح قبل ان يذبح النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إن هذا يوم اللحم فيه مكروه وإني عجلت نسيكتي لاطعم اهلي وجيراني واهل داري، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اعد نسكا "، فقال: يا رسول الله، إن عندي عناق لبن هي خير من شاتي لحم، فقال: " هي خير نسيكتيك، ولا تجزي جذعة عن احد بعدك ".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کے ماموں ابوبردہ بن نیاز رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی کر لی تو کہنے لگا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کی خواہش رکھنا برا ہے (یعنی قربانی نہ کرنا اور بال بچوں کے دل میں گوشت کی خواہش باقی رکھنا اس دن برا ہے۔ اور بعض نسخوں میں مکروہ کے بدلے مقروم ہے تو ترجمہ یہ ہو گا یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کی طلب ہوتی ہے) اور میں نے اپنی قربانی جلد کی تاکہ کھلاؤں میں اپنے بال بچوں اور ہمسایوں کے گھر والوں کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قربانی کر۔“ وہ بولا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دودھ والی کمسن بکری ہے (ایک برس سے کم عمر کی اس کو عربی میں عناق کہتے ہیں) اور وہ میرے نزدیک گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بہتر ہے تیری دونوں قربانیوں میں۔“ (اگرچہ پہلی بکری قربانی نہ تھی مگر چونکہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیت خیر سے ذبح کیا تھا اس وجہ سے اس میں بھی ثواب ہوا) اور اب تیرے بعد ایک برس سے کم کی بکری کسی کے لیے درست نہ ہو گی۔“