وحدثنا يحيي بن يحيي ، اخبرنا خالد بن عبد الله ، عن مطرف ، عن عامر ، عن البراء ، قال: ضحى خالي ابو بردة قبل الصلاة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تلك شاة لحم؟ "، فقال: يا رسول الله، إن عندي جذعة من المعز، فقال: " ضح بها ولا تصلح لغيرك "، ثم قال: " من ضحى قبل الصلاة، فإنما ذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة، فقد تم نسكه واصاب سنة المسلمين ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میرے ماموں ابوبردہ نے نماز سے پہلے قربانی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہوئی۔“ (یعنی قربانی کا ثواب نہیں ہے)۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک چھ مہینے کا بچہ ہے بکری کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر اور تیرے سوا اور کسی کے لیے یہ درست نہیں۔“ (بلکہ بکری ایک برس یا زیادہ کی ضروری ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے اس نے اپنی ذات کے لیے ذبح کیا (یعنی گوشت کھانے کے لیے قربانی کا ثواب نہیں ملتا) اور جو شخص نماز کے بعد ذبح کرے اس کی قربانی پوری ہوئی اور وہ پا گیا مسلمانوں کی سنت کو۔“