كِتَاب الْأَضَاحِيِّ قربانی کے احکام و مسائل

حدثنا احمد بن يونس ، حدثنا زهير ، حدثنا الاسود بن قيس . ح، وحدثناه يحيي بن يحيي ، اخبرنا ابو خيثمة ، عن الاسود بن قيس ، حدثني جندب بن سفيان ، قال: شهدت الاضحى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يعد ان صلى وفرغ من صلاته سلم، فإذا هو يرى لحم اضاحي قد ذبحت قبل ان يفرغ من صلاته، فقال: " من كان ذبح اضحيته قبل ان يصلي او نصلي، فليذبح مكانها اخرى، ومن كان لم يذبح فليذبح باسم الله ".

‏‏‏‏ سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں عیدالاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی نماز نہیں پڑھی تھی اور نماز سے فارغ نہیں ہوئے تھے اور سلام نہیں کیا تھا کہ دیکھا قربانیوں کا گوشت اور وہ ذبح ہو چکی تھیں، نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قربانی ذبح کی اپنی نماز سے پہلے ہی یا ہماری نماز سے پہلے (یہ شک ہے راوی کا) وہ دوسری قربانی کرے (کیونکہ پہلے قربانی درست نہیں ہوئی) اور جس نے نہیں ذبح کی وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرے۔

صحيح مسلم # 5064
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp