وحدثنا محمد بن عباد ، وقتيبة بن سعيد ، قالا: حدثنا حاتم وهو ابن إسماعيل ، عن يزيد بن ابي عبيد ، عن سلمة بن الاكوع ، قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خيبر، ثم إن الله فتحها عليهم، فلما امسى الناس اليوم الذي فتحت عليهم اوقدوا نيرانا كثيرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما هذه النيران على اي شيء توقدون؟ "، قالوا: على لحم، قال: " على اي لحم؟ "، قالوا: على لحم حمر إنسية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اهريقوها واكسروها "، فقال رجل: يا رسول الله او نهريقها ونغسلها، قال: او ذاك.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف، پھر اللہ تعالیٰ نے فتح کر دیا خیبر کو، جس دن فتح ہوا اس کی شام کو لوگوں نے بہت انگار جلائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ انگار کیسے ہیں اور کیا چیز پکاتے ہیں؟۔“ لوگوں نے عرض کیا، گوشت پکاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت، لوگوں کس چیز کا؟۔“ ہم نے کہا: بستی کے گدھوں کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت بہا دو اور ہانڈیاں توڑ ڈالو۔“ ایک شخص بولا: ہم گوشت بہا دیں اور ہانڈیاں دھو ڈالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اچھا ایسا ہی کر لو۔“