حدثني احمد بن عبد الرحمن بن وهب ، حدثنا عمي عبد الله بن وهب ، حدثنا عمرو بن الحارث ، حدثني يزيد بن ابي حبيب ، حدثني عبد الرحمن بن شماسة المهري ، قال: كنت عند مسلمة بن مخلد، وعنده عبد الله بن عمرو بن العاص، فقال عبد الله : لا تقوم الساعة إلا على شرار الخلق هم شر من اهل الجاهلية، لا يدعون الله بشيء إلا رده عليهم، فبينما هم على ذلك اقبل عقبة بن عامر، فقال له مسلمة يا عقبة: اسمع ما يقول عبد الله، فقال عقبة : هو اعلم، واما انا فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا تزال عصابة من امتي يقاتلون على امر الله قاهرين لعدوهم، لا يضرهم من خالفهم حتى تاتيهم الساعة وهم على ذلك "، فقال عبد الله: اجل، " ثم يبعث الله ريحا كريح المسك مسها مس الحرير، فلا تترك نفسا في قلبه مثقال حبة من الإيمان إلا قبضته ثم يبقى شرار الناس عليهم تقوم الساعة ".
عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے روایت ہے، میں مسلمہ بن مخلد کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قیامت قائم نہ ہو گی مگر بدترین خلق اللہ پر، وہ بدتر ہوں گے جاہلیت والوں سے اللہ تعالیٰ سے جس بات کی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو دے دے گا لوگ اسی حال میں تھے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آئے۔ مسلمہ نے ان سے کہا: اے عقبہ! عبداللہ کیا کہتے ہیں۔ عقبہ نے کہا! وہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ پر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ یا ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمن پر غالب رہے گی۔ جو کوئی ان کا خلاف کرے گا ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیشک (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا) لیکن پھر اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا، جس میں مشک کی سی بو ہو گی اور ریشم کی طرح بدن پر لگے گی وہ نہ چھوڑے گی کسی شخص کو جس کے دل میں ایک دانے برابر بھی ایمان ہو گا بلکہ اس کو مار دے گی بعد اس کے سب برے (کافر) لوگ رہ جائیں گے انہی پر قیامت قائم ہو گی۔