حدثنا محمد بن حاتم ، حدثنا عفان ، حدثنا حماد ، اخبرنا ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: جاء ناس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: ان ابعث معنا رجالا يعلمونا القرآن والسنة، فبعث إليهم سبعين رجلا من الانصار يقال لهم القراء، فيهم خالي حرام يقرءون القرآن ويتدارسون بالليل يتعلمون، وكانوا بالنهار يجيئون بالماء فيضعونه في المسجد ويحتطبون، فيبيعونه ويشترون به الطعام لاهل الصفة وللفقراء، فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم إليهم فعرضوا لهم فقتلوهم قبل ان يبلغوا المكان، فقالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا، قال: واتى رجل حراما خال انس من خلفه، فطعنه برمح حتى انفذه، فقال: حرام فزت ورب الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه: " إن إخوانكم قد قتلوا وإنهم قالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ چند آدمی کردیجیئیے جو ہم کو قرآن اور حدیث سکھلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری آدمیوں کو کر دیا جن کو قراء (قاری کی جمع یعنی قرآن پڑھنے والے) کہتے تھے، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے۔ وہ لوگ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور رات کو قرآن مجید کی تحقیق کرتے سیکھتے اور دن کو پانی لا کر مسجد میِں رکھتے اور لکڑیاں اکٹھی کرتے پھر اس کو بیچتے اور کھانا خریدتے صفہ والوں اور فقیروں کے لیے۔ (صفہ مسجد میں ایک مقام تھا پٹا ہوا اس میں ستر آدمی رہتے تھے جو محض بے معاش اور متوکل تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ انہوں نے راستہ میں ان کا مقابلہ کیا اور ان کو قتل کیا (یعنی ان لوگوں کو جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کر دیا تھا) اپنے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے۔ انہوں نے (مرتے وقت) کہا: یا اللہ! ہمارے نبی کو پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، اور راضی ہیں تجھ سے اور تو ہم سے راضی ہے۔ ایک شخص (کافروں میں سے) حرام کے پاس آیا (جو ماموں تھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے) اور برچھا مارا ان کے ایسا کہ پار ہو گیا۔ حرام نے کہا: میں مراد کو پہنچ گیا قسم ہے کعبہ کے مالک کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی مارے گئے اور انہوں نے یہ کہا کہ یا اللہ! ہمارے نبی کو خبر کر دے کہ ہم تجھ سے مل گئے اور تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔“ (یہ خبر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خبر دی)۔