كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

حدثنا يحيي بن يحيي التميمي، وقتيبة بن سعيد، واللفظ ليحيى، قال قتيبة : حدثنا، وقال يحيى : اخبرنا جعفر بن سليمان ، عن ابي عمران الجوني ، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس ، عن ابيه ، قال: سمعت ابي وهو بحضرة العدو، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن ابواب الجنة تحت ظلال السيوف "، فقام رجل رث الهيئة، فقال: يا ابا موسى آنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا؟، قال: نعم، قال: فرجع إلى اصحابه، فقال: اقرا عليكم السلام، ثم كسر جفن سيفه فالقاه ثم مشى بسيفه إلى العدو فضرب به حتى قتل.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے روایت کیا، وہ دشمن کے سامنے تھے اور کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سایوں تلے ہیں۔ یہ سن کر ایک شخص اٹھا غریب میلا کچیلا اور کہنے لگا۔ اے ابوموسیٰ! تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ سن کر وہ اپنے یاروں کی طرف گیا اور کہا: میں تم کو سلام کرتا ہوں اور اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا، پھر تلوار لے کر دشمن کی طرف گیا اور مارا دشمن کو یہاں تک کہ شہید ہوا۔

صحيح مسلم # 4916
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp