حدثنا ابو بكر بن النضر بن ابي النضر ، وهارون بن عبد الله ، ومحمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، والفاظهم متقاربة، قالوا: حدثنا هاشم بن القاسم ، حدثنا سليمان وهو ابن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسيسة عينا ينظر ما صنعت عير ابي سفيان، فجاء وما في البيت احد غيري وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا ادري ما استثنى بعض نسائه، قال: فحدثه الحديث، قال: فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتكلم فقال: " إن لنا طلبة فمن كان ظهره حاضرا، فليركب معنا "، فجعل رجال يستاذنونه في ظهرانهم في عل والمدينة، فقال: " لا، إلا من كان ظهره حاضرا "، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر، وجاء المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقدمن احد منكم إلى شيء حتى اكون انا دونه "، فدنا المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قوموا إلى جنة عرضها السموات والارض "، قال: يقول عمير بن الحمام الانصاري: يا رسول الله، جنة عرضها السموات والارض؟، قال: نعم، قال: بخ بخ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما يحملك على قولك بخ بخ؟، قال: لا والله يا رسول الله إلا رجاءة ان اكون من اهلها، قال: " فإنك من اهلها "، فاخرج تمرات من قرنه فجعل ياكل منهن، ثم قال: لئن انا حييت حتى آكل تمراتي هذه إنها لحياة طويلة، قال: فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ (ایک شخص کا نام ہے) کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کی خبر لائے وہ لوٹ کر آیا اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہ تھا۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بی بی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا، پھر حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا: ”ہمیں کام ہے تو جس کی سواری موجود ہو وہ سوار ہو ہمارے ساتھ۔“ یہ سن کر چند آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنے لگے اپنی سواریوں میں جانے کی جو مدینہ منورہ کی بلندی میں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں صرف وہ لوگ جائیں جن کی سواریاں موجود ہوں۔“ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچے اور مشرک بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نہ بڑھے جب تک میں اس کے آگے نہ ہوں۔“پھر مشرک قریب پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اٹھو جنت میں جانے کے لیے جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“سیدنا عمیرن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: واہ سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کیوں کہتا ہے۔“ وہ بولا کچھ نہیں یا رسول اللہ! میں نے اس امید سے کہا کہ جنت کے لوگوں سے میں بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو جنت والوں میں سے ہے۔“ یہ سن کر اس نے چند کھجوریں اپنے ترکش سے نکالیں اور ان کو کھانے لگا، پھر بولا اگر میں جیوں اپنی کھجوریں کھانے تک تو بڑی لمبی زندگی ہو اور جتنی کھجوریں باقی تھیں وہ پھینک دیں اور لڑا کافروں سے یہاں تک کہ شہید ہوا۔