كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثنا ثابت ، عن انس بن مالك . ح وحدثني ابو بكر بن نافع واللفظ له، حدثنا بهز ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثنا ثابت ، عن انس بن مالك ، ان فتى من اسلم، قال: يا رسول الله، إني اريد الغزو وليس معي ما اتجهز، قال: ائت فلانا، فإنه قد كان تجهز فمرض، فاتاه، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرئك السلام، ويقول: اعطني الذي تجهزت به، قال: " يا فلانة اعطيه الذي تجهزت به، ولا تحبسي عنه شيئا فوالله لا تحبسي منه شيئا فيبارك لك فيه ".

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک جوان اسلم قبیلہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولا: یا رسول اللہ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور میرے پاس سامان نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کے پاس جا اس نے سامان کیا تھا جہاد کا پر وہ شخص بیمار ہو گیا۔ وہ شخص اس کے پاس گیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ سامان مجھ کو دیدے۔ اس نے (اپنی بی بی یا لونڈی سے کہا) اے فلانی! وہ سب سامان اس کو دیدے اور کوئی چیز مت رکھ اللہ کی قسم جو چیز رکھ لے گی اس میں برکت نہ ہو گی۔

صحيح مسلم # 4901
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp