كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن عمارة وهو ابن القعقاع ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تضمن الله لمن خرج في سبيله، لا يخرجه إلا جهادا في سبيلي وإيمانا بي وتصديقا برسلي، فهو علي ضامن ان ادخله الجنة او ارجعه إلى مسكنه الذي خرج منه نائلا، ما نال من اجر او غنيمة، والذي نفس محمد بيده ما من كلم يكلم في سبيل الله إلا جاء يوم القيامة كهيئته، حين كلم لونه لون دم وريحه مسك، والذي نفس محمد بيده لولا ان يشق على المسلمين ما قعدت خلاف سرية تغزو في سبيل الله ابدا، ولكن لا اجد سعة، فاحملهم ولا يجدون سعة، ويشق عليهم ان يتخلفوا عني، والذي نفس محمد بيده لوددت اني اغزو في سبيل الله، فاقتل ثم اغزو، فاقتل ثم اغزو فاقتل ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ضامن ہے اس کا جو نکلے اس کی راہ میں اور نہ نکلے مگر جہاد کے لیے اور ایمان رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر اور سچ جانتا ہو اس کے پیغمبروں کو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایسا شخص میری حفاظت میں ہے یا تو میں اس کو جنت میں لے جاؤں گا یا اس کو پھیر دوں گا اس کے گھر کی طرف ثواب یا غنیمت دے کر۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کوئی زخم ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگے مگر وہ قیامت کے دن اسی شکل پر آئے گا جیسا دنیا میں ہوا تھا۔ اس کا رنگ خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے کبھی بھی لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں (سواریوں وغیرہ کی) اور مسلمانوں پر دشوار ہو گا میرے ساتھ نہ چلنا۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اللہ کی راہ میں پھر مارا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر مارا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر مارا جاؤں۔

صحيح مسلم # 4859
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp