كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

حدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، قال: قال ابن شهاب : اخبرني عروة بن الزبير ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: كانت المؤمنات إذا هاجرن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يمتحن بقول الله عز وجل يايها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على ان لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين سورة الممتحنة آية 12، إلى آخر الآية، قالت عائشة: فمن اقر بهذا من المؤمنات فقد اقر بالمحنة، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اقررن بذلك من قولهن، قال لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم: " انطلقن فقد بايعتكن "، ولا والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة قط غير انه يبايعهن بالكلام، قالت عائشة: والله ما اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على النساء قط إلا بما امره الله تعالى، وما مست كف رسول الله صلى الله عليه وسلم كف امراة قط، وكان يقول لهن إذا اخذ عليهن قد بايعتكن كلاما.

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، مسلمان عورتیں جب ہجرت کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا امتحان لیتے اس آیت کے موافق اے نبی! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو آئیں اس بات پر کہ شریک نہ کریں گی اللہ کا کسی کو، چوری نہ کریں گی۔ زنا نہ کریں گی۔ اخیر تک پھر جو کوئی عورت ان باتوں کا اقرار کرتی وہ گویا بیعت کا اقرار کرتی (یعنی بیعت ہو جاتی) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وہ اقرار کر لیتیں اپنی زبان سے تو فرماتے: جاؤ! میں تم سے بیعت لے چکا۔ قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے نہیں چھوا، البتہ زبان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بیعت لیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے کوئی اقرار نہیں لیا مگر جس کا اللہ نے حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کسی عورت کی ہتھیلی سے کبھی نہیں لگی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے فرما دیتے (جب وہ اقرار کر لیتیں): میں تم سے بیعت کر چکا۔

صحيح مسلم # 4834
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp