وحدثني ابو غسان المسمعي ، ومحمد بن بشار جميعا، عن معاذ واللفظ لابي غسان، حدثنا معاذ وهو ابن هشام الدستوائي ، حدثني ابي ، عن قتادة ، حدثنا الحسن ، عن ضبة بن محصن العنزي ، عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه قال: " إنه يستعمل عليكم امراء فتعرفون وتنكرون، فمن كره فقد برئ، ومن انكر فقد سلم، ولكن من رضي وتابع، قالوا: يا رسول الله، الا نقاتلهم، قال: لا ما صلوا، اي من كره بقلبه وانكر بقلبه "،
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر ایسے امیر مقرر ہوں گے جن کے تم اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی، پھر جو کوئی برے کام کو برا جانے وہ گناہ سے بچا اور جس نے برا کہا وہ بھی بچا لیکن جو راضی ہوا اور اسی کی پیروی کی (وہ تباہ ہوا)“، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم ان سے لڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“ (برا کہا یعنی دل میں برا کہا اور دل سے برا جانا گویا زبان سے نہ کہہ سکے)۔