حدثنا احمد بن عبد الرحمن بن وهب بن مسلم ، حدثنا عمي عبد الله بن وهب ، حدثنا عمرو بن الحارث ، حدثني بكير ، عن بسر بن سعيد ، عن جنادة بن ابي امية ، قال: دخلنا على عبادة بن الصامت وهو مريض، فقلنا حدثنا: اصلحك الله بحديث ينفع الله به، سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: دعانا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبايعناه، فكان فيما اخذ علينا، " ان بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا ويسرنا، واثرة علينا، وان لا ننازع الامر اهله، قال: إلا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان ".
جنادہ بن امیہ سے روایت ہے، ہم سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ بیمار تھے۔ ہم نے کہا: بیان کرو ہم سے (اللہ تعالیٰ تم کو اچھا کرے)۔ ایسی کوئی حدیث ہے جس سے اللہ فائدے دے دے اور جس کو تم نے سنا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ انہوں نے کہا ہم کو بلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ نے جو عہد لیے ان میں یہ بھی بتایا کہ ہم بیعت کرتے ہیں بات سننے اور اطاعت کرنے پر خوشی اور ناخوشی میں، سختی اور آسانی میں اور ہماری حق تلفیاں ہونے میں اور ہم جھگڑا نہ کریں گے اس شخص کی خلافت میں جو اس کے لائق ہو ”مگر جب کھلا کفر دیکھیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس حجت ہو۔“