وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، وزهير بن حرب ، وابو سعيد الاشج وتقاربوا في اللفظ، قالوا: حدثنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن سعد بن عبيدة ، عن ابي عبد الرحمن ، عن علي ، قال: " بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية واستعمل عليهم رجلا من الانصار، وامرهم ان يسمعوا له ويطيعوا، فاغضبوه في شيء، فقال: اجمعوا لي حطبا، فجمعوا له، ثم قال: اوقدوا نارا فاوقدوا، ثم قال: الم يامركم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تسمعوا لي وتطيعوا، قالوا: بلى، قال: فادخلوها، قال: فنظر بعضهم إلى بعض، فقالوا: إنما فررنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من النار، فكانوا كذلك وسكن غضبه وطفئت النار، فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: لو دخلوها ما خرجوا منها إنما الطاعة في المعروف "،
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو حاکم کیا (نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے معلوم ہوا کہ وہ شخص عبداللہ بن خذافہ نہ تھے) اور حکم کیا لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے اور اس کی بات سننے کا، پھر ان لوگوں نے اس کو غصے کیا کسی بات میں، اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو۔ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں پھر اس نے کہا: انگار جلاؤ۔ انہوں نے انگار جلائے تب وہ شخص بولا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم کو حکم نہیں دیا ہے میری بات سننے کا اور میری اطاعت کرنے کا۔ اوہ بولے بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا تو اس انگار میں گھس جاؤ، یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور انہوں نے کہا: ہم تو انگار ہی سے (جہنم کے) بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر وہ اسی حال میں رہے یہاں تک کہ اس کا غصہ فرو ہو گیا تھا اور انگار بجھا دیئے گئے۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انگار میں گھس جاتے تو پھر اس میں سے نہ نکلتے، اطاعت کرنا اسی بات میں لازم ہے جو واجبی ہو۔“ (یعنی شریعت کی رو سے منع نہ ہو۔ نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس نے یہ بات امتحان لینے کے لیے کی تھی یا مذاق سے اور ہر حال میں خلاف شرع بات میں سردار کی اطاعت نہیں کرنی چاہیئے)۔