كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن زبيد ، عن سعد بن عبيدة ، عن ابي عبد الرحمن ، عن علي ، " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث جيشا وامر عليهم رجلا، فاوقد نارا، وقال: ادخلوها فاراد ناس ان يدخلوها، وقال الآخرون: إنا قد فررنا منها، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: للذين ارادوا ان يدخلوها لو دخلتموها لم تزالوا فيها إلى يوم القيامة، وقال للآخرين: قولا حسنا، وقال: لا طاعة في معصية الله إنما الطاعة في المعروف ".

‏‏‏‏ امیر المؤمنین سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر حاکم کیا ایک شخص کو اس نے انگار جلائے اور لوگوں سے کہا اس میں گھس جاؤ۔ بعض نے چاہا اس میں گھس جائیں، اور بعض نے کہا کہ ہم انگار سے بھاگ کر تو مسلمان ہوئے اور کفر چھوڑا جہنم سے ڈر کر اب پھر انگار ہی میں گھسیں، یہ ہم سے نہ ہو گا۔ پھر اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں سے جنہوں نے گھسنے کا قصد کیا تھا: اگر تم گھس جاتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے قیامت تک۔ (کیونکہ یہ خودکشی ہے اور وہ شریعت میں حرام ہے) اور جو لوگ گھسنے پر راضی نہ ہوئے ان کی تعریف کی اور فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں بلکہ اطاعت اسی میں ہے جو دستور کی بات ہو۔

صحيح مسلم # 4765
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp