كِتَاب الْإِمَارَةِ امور حکومت کا بیان

حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا ابو اسامة ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، عن ابي حميد الساعدي ، قال: " استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من الازد على صدقات بني سليم يدعى ابن الاتبية، فلما جاء حاسبه، قال: هذا مالكم وهذا هدية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فهلا جلست في بيت ابيك وامك حتى تاتيك هديتك إن كنت صادقا، ثم خطبنا فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد فإني استعمل الرجل منكم على العمل مما ولاني الله، فياتي، فيقول: هذا مالكم وهذا هدية اهديت لي، افلا جلس في بيت ابيه وامه حتى تاتيه هديته إن كان صادقا، والله لا ياخذ احد منكم منها شيئا بغير حقه إلا لقي الله تعالى يحمله يوم القيامة، فلاعرفن احدا منكم لقي الله يحمل بعيرا له رغاء او بقرة لها خوار او شاة تيعر، ثم رفع يديه حتى رئي بياض إبطيه، ثم قال: اللهم هل بلغت بصر عيني وسمع اذني "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسد کے قبیلہ سے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہتے تھے، بنی سلیم کے صدقے تحصیل کرنے کے لیے مقرر کیا جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حساب لیا، وہ کہنے لگا یہ تو آپ کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے۔ (جو لوگوں نے مجھ کو دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ماں باپ یا ماں کے گھر میں بیٹھا ہوتا تیرا ہدیہ تیرے پاس آ جاتا اگر تو سچا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سنایا ہم کو اور اللہ تعریف کی اور ستائش کی بعد اس کے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو کام پر مقرر کرتا ہوں ان کاموں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دیئے، پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے، اور یہ مجھ کو ہدیہ ملا۔ بھلا وہ اپنے باپ یا اماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر اس کا ہدیہ اس کے پاس آ جاتا اگر وہ سچا ہے۔ قسم اللہ کی کوئی تم میں سے کوئی چیز ناحق نہ لے مگر اللہ تعالیٰ سے ملے گا اس کو لادے ہوئے اور میں پہچانوں گا تم میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملے گا اونٹ اٹھائے ہوئے اور وہ بڑبڑا رہا ہو گا یا گائے اٹھائے ہوئے وہ آواز کرتی ہو گی یا بکری اٹھائے ہوئے وہ چلاتی ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھلائی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ میں نے پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری آنکھ نے یہ دیکھا اور میرے کان نے یہ سنا۔

صحيح مسلم # 4740
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp