حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن ابن عمر ، قال: " حضرت ابي حين اصيب، فاثنوا عليه، وقالوا: جزاك الله خيرا، فقال: راغب وراهب، قالوا: استخلف، فقال: اتحمل امركم حيا وميتا، لوددت ان حظي منها الكفاف لا علي، ولا لي فإن استخلف، فقد استخلف من هو خير مني يعني ابا بكر، وإن اترككم، فقد ترككم من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: عبد الله فعرفت انه حين ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم غير مستخلف ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میرے باپ (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) جب زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا: اللہ تعالیٰ تم کو نیک بدلہ دے۔ انہوں نے کہا: لوگ دو طرح کے ہیں بعض تو امیدوار ہیں مجھ سے کچھ حاصل کرنے کے اور بعض ڈرتے ہیں مجھ سے۔ یا میں امیدوار ہوں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اور ڈرتا ہوں اس کے عذاب سے۔ لوگوں نے کہا: آپ خلیفہ کر جائیے کسی کو۔ انہوں نے کہا: میں تمہارا کام کروں زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی؟ میں چاہتا ہوں کہ خلافت سے اتنا ہی مجھ کو ملے کہ نہ میرے اوپر کچھ وبال ہو نہ مجھے کچھ ثواب ہو (یعنی حکومت اور خلافت ایسی خوفناک چیز ہے کہ اس میں سے انسان کو صاف ہو کر چھوٹ جائے اور کوئی وبال اپنی گردن پر نہ لے جائے تو بھی بہت ہے اجر اور ثواب تو نہایت مشکل ہے۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو باوصف اتنے عدل اور انصاف اور اتباع شرع کے ایسا تردد تھا تو اور حاکموں کا کیا حال ہو گا) اور اگر میں خلیفہ کر جاؤں کسی کو تو بھی ہو سکتا ہے کیونکہ خلیفہ کر گئے مجھ کو جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) اور اگر میں کسی کو خلیفہ نہ کر جاؤں تو بھی ہو سکتا ہے کیونکہ خلیفہ نہیں کر گئے کسی کو جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو مجھے یقین ہوا کہ وہ کسی کو خلیفہ نہ کریں گے۔