حدثني زهير بن حرب ، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، عن مالك . ح وحدثنيه ابو الطاهر واللفظ له، حدثني عبد الله بن وهب ، عن مالك بن انس ، عن الفضيل بن ابي عبد الله ، عن عبد الله بن نيار الاسلمي ، عن عروة بن الزبير ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: " خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل بدر، فلما كان بحرة الوبرة ادركه رجل قد كان يذكر منه جراة ونجدة، ففرح اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حين راوه، فلما ادركه، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: جئت لاتبعك واصيب معك، قال له: رسول الله صلى الله عليه وسلم: تؤمن بالله ورسوله؟، قال: لا، قال: فارجع فلن استعين بمشرك، قالت: ثم مضى حتى إذا كنا بالشجرة ادركه الرجل، فقال له: كما قال اول مرة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كما قال اول مرة، قال: فارجع فلن استعين بمشرك، قال: ثم رجع فادركه بالبيداء، فقال له: كما قال اول مرة تؤمن بالله ورسوله؟، قال: نعم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فانطلق ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب حرۃ الوبرہ (جو مدینہ سے چار میل پر ہے) میں پہنچے تو ایک شخص ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جس کی بہادری اور اصالت کا شہرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا: میں اس لیے آیا کہ آپ کے ساتھ چلوں اور جو ملے اس میں حصہ پاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یقین ہے اللہ اور اس کے رسول کا۔“ وہ بولا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب شجرہ پہنچے تو وہ شخص پھر ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا اور فرمایا کہ ”لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔“ پھر وہ لوٹ گیا۔ بعد اس کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا بیدآء میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا تھا ”تو یقین رکھتا ہے اللہ اور اس کے رسول پر۔“ اب وہ شخص بولا: ہاں! میں یقین رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خیر چل۔“