حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن ابي إسحاق ، ان عبد الله بن يزيد خرج يستسقي بالناس، فصلى ركعتين ثم استسقى، قال: فلقيت يومئذ زيد بن ارقم ، وقال: ليس بيني وبينه غير رجل او بيني وبينه رجل، قال: فقلت: له كم غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، قال: تسع عشرة، فقلت: كم غزوت انت معه؟، قال: سبع عشرة غزوة، قال: فقلت: فما اول غزوة غزاها؟، قال: ذات العسير، او العشير ".
ابواسحاق سے روایت ہے، عبداللہ بن یزید استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں، پھر دعا مانگی پانی کے لیے، اس دن میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ملا میرے اور ان کے بیچ میں صرف ایک شخص تھا ان سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے جہاد کیے ہیں؟ انہوں نے کہا: انیس۔ میں نے پوچھا تم کتنے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ انہوں کہا: سترہ میں۔ میں نے پوچھا: پہلا جہاد کون سا تھا؟ انہوں نے کہا: ذات العسیر یا ذات العشیر (جو ایک مقام کا نام ہے، سیرۃ ابن ہشام میں اس کو غزوۃ العشیرہ لکھا ہے۔ اس میں لڑائی نہ ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشیرہ تک جا کر مدینہ کو پلٹ آئے۔ یہ واقعہ ۲ جری میں ہوا۔ ابن ہشام نے کہا کہ سب سے پہلے غزوہ ودان ہوا مدینہ میں آنے کے ایک سال کے اخیر پر۔ اس میں بھی لڑائی نہیں ہوئی)۔