كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم كلاهما، عن حاتم بن إسماعيل ، عن جعفر بن محمد ، عن ابيه ، عن يزيد بن هرمز ، ان نجدة كتب إلى ابن عباس يساله، عن خلال بمثل حديث سليمان بن بلال غير ان في حديث حاتم، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يقتل الصبيان، فلا تقتل الصبيان إلا ان تكون تعلم ما علم الخضر من الصبي الذي قتل وزاد إسحاق في حديثه، عن حاتم وتميز المؤمن فتقتل الكافر وتدع المؤمن.

‏‏‏‏ یزید بن ہرمز سے روایت ہے، نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا ان سے پوچھتا تھا کئی باتیں، بیان کیا حدیث کو اسی طرح، اس روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکوں کو نہیں مارتے تھے تو بھی لڑکوں کو مت مار مگر تجھ کو ایسا علم ہو جیسے خضر علیہ السلام کو تھا جب انہوں نے ایک لڑکے کو مار ڈالا تھا۔ اسحاق کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ تو تمیز کرے مومن کی پھر قتل کرے کافر کو اور چھوڑ دے مومن کو(یعنی تو پہچان لے کہ کون سا بچہ بڑا ہو کر مومن ہو گا اور کون سا کافر اور یہ محال ہے اس لیے قتل بھی بچوں کا ناجائز ہے۔)

صحيح مسلم # 4685
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp