كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

حدثنا علي بن حجر السعدي ، اخبرنا إسماعيل يعني ابن علية ، حدثنا سليمان التيمي ، حدثنا انس بن مالك ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ينظر لنا ما صنع ابو جهل؟، فانطلق ابن مسعود، فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى برك، قال: فاخذ بلحيته، فقال: آنت ابو جهل؟، فقال: وهل فوق رجل قتلتموه او قال قتله قومه، قال: وقال ابو مجلز: قال ابو جهل: فلو غير اكار قتلني "،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون خبر لاتا ہے ابوجہل کی۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ گئے دیکھا تو عفراء کے بیٹوں نے اسے ایسا مارا کہ ٹھنڈا ہو گیا ہے (یعنی موت کے قریب ہے) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑی اور کہا: تو ابوجہل ہے وہ بولا: کیا تم زیادہ ہو اس شخص سے جس کو تم نے مارا ہے (یعنی مجھ سے زیادہ قریش میں کوئی بڑے درجہ کا نہیں) یا اس کی قوم نے مارا ہے (مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مجھے قتل کیا تو میری کوئی ذلت نہیں) ابومجلز نے کہا: ابوجہل نے کہا: کاش! کسان کے سوا اور کوئی مجھے مارتا۔

صحيح مسلم # 4662
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp