حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن رافع واللفظ لابن رافع، قال إسحاق اخبرنا، وقال ابن رافع: حدثنا يحيي بن آدم ، حدثنا زهير ، عن الاسود بن قيس ، قال: سمعت جندب بن سفيان ، يقول: " اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يقم ليلتين او ثلاثا، فجاءته امراة، فقالت: يا محمد: إني لارجو ان يكون شيطانك قد تركك لم اره قربك منذ ليلتين او ثلاث، قال: فانزل الله عز وجل والضحى {1} والليل إذا سجى {2} ما ودعك ربك وما قلى {3} سورة الضحى آية 1-3 "،
اسود قیس سے روایت ہے، میں نے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو دو تین دن رات تک نہیں اٹھے، پھر ایک عورت آئی (عوراء بنت حرب ابوسفیان کی بہن، ابولہب کی بی بی حمالۃ الحطب) اور کہنے لگی، اے محمد! میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا (یہ اس شیطان نے ہنسی سے کہا) میں دیکھتی ہوں دو تین رات سے تمہارے پاس نہیں آیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری «وَالضُّحَىٰ، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» اخیر تک اس کے معنی اوپر گزرے۔