كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثنا هداب بن خالد الازدي ، حدثنا حماد بن سلمة ، عن علي بن زيد ، وثابت البناني ، عن انس بن مالك " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد يوم احد في سبعة من الانصار ورجلين من قريش، فلما رهقوه، قال: من يردهم عنا وله الجنة او هو رفيقي في الجنة، فتقدم رجل من الانصار فقاتل حتى قتل ثم رهقوه ايضا، فقال: من يردهم عنا وله الجنة او هو رفيقي في الجنة، فتقدم رجل من الانصار فقاتل حتى قتل فلم يزل كذلك حتى قتل السبعة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصاحبيه: ما انصفنا اصحابنا ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن (جب کافروں کا غلبہ ہوا اور مسلمان مغلوب ہو گئے) الگ ہو گئے سات آدمی انصار کے اور دو قریش کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے اور کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ان کو پھیرتا ہے اس کو جنت ملے گی یا میرا رفیق ہو گا جنت میں۔ ایک انصاری آگے بڑھا اور لڑا یہاں تک کہ مارا گیا۔ پھر انہوں نے ہجوم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ان کو لوٹاتا ہے اس کو جنت ملے گی یا میرا رفیق ہوگا جنت میں۔ اور ایک انصاری بڑھا اور لڑا یہاں تک کہ مارا گیا۔ پھر یہی حال رہا یہاں تک کہ ساتوں آدمی انصار کے شہید ہوئے (سبحان اللہ! انصار کی جانثاری اور وفاداری کیسی تھی، یہاں سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اور مرتبہ سمجھ لینا چاہیئے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے انصاف نہ کیا اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ یا ہمارے یاروں نے ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا۔ (پہلی صورت میں یہ مطلب ہو گا کہ انصاف نہ کیا یعنی قریش بیٹھے رہے اور انصار شہید ہو گئے قریش کو بھی نکلنا چاہیئے تھا۔ دوسری صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے یار جو بھاگ گئے جان بچا کر انہوں نے انصاف نہ کیا کہ ان کے بھائی شہید ہوئے اور وہ اپنے تئیں بچانے کی فکر میں رہے)۔

صحيح مسلم # 4641
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp