وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة ، عن الوليد بن جميع ، حدثنا ابو الطفيل ، حدثنا حذيفة بن اليمان ، قال: " ما منعني ان اشهد بدرا إلا اني خرجت انا وابي حسيل، قال: فاخذنا كفار قريش، قالوا: إنكم تريدون محمدا، فقلنا: ما نريده ما نريد إلا المدينة، فاخذوا منا عهد الله وميثاقه، لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فاتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرناه الخبر فقال: انصرفا نفي لهم بعهدهم ونستعين الله عليهم ".
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مجھے بدر میں آنے سے کسی چیز نے نہ روکا مگر یہ کہ میں نکلا اپنے باپ حسیل کے ساتھ (یہ کنیت ہے حذیفہ کے باپ کی اور بعض نے حِسل کہا ہے) تو ہم کو قریش کے کافروں نے پکڑا اور کہا: تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو، سو ہم نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں جانا چاہتے بلکہ ہم مدینہ میں جانا چاہتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہم سے اللہ کا نام لے کر عہد اور اقرار لیا کہ ہم مدینہ کو پھر جائیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر نہیں لڑیں گے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے یہ سب قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چلے جاؤ مدینہ کو ہم ان کا اقرار پورا کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں گے ان پر۔“