حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، قالا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن شقيق ، قال: سمعت سهل بن حنيف ، يقول: " بصفين ايها الناس اتهموا رايكم والله لقد رايتني يوم ابي جندل، ولو اني استطيع ان ارد امر رسول الله صلى الله عليه وسلم لرددته والله، ما وضعنا سيوفنا على عواتقنا إلى امر قط، إلا اسهلن بنا إلى امر نعرفه إلا امركم هذا "، لم يذكر ابن نمير إلى امر قط،
شقیق سے روایت ہے، میں نے سہل بن حنیف سے سنا، وہ کہتے تھے صفین میں اے لوگو! اپنی عقلوں کا قصور سمجھو، قسم اللہ کی تم دیکھتے مجھ کو ابوجندل کے روز (یعنی حدیبیہ کے دن ابوجندل کا نام عاص بن سہیل بن عمرو تھا) اگر میں طاقت رکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پھیرنے کی البتہ پھیر دیتا اس کو (یہ مبالغہ کے طور پر کہا یعنی صلح ہم کو ایسی ناگوار تھی) قسم اللہ کی ہم نے کبھی اپنی تلواریں کاندھوں پر نہیں رکھیں مگر وہ لے گئیں ہم کو اس بات کی طرف جس کو ہم جانتے ہیں مگر اس لڑائی میں (جو شام والوں سے تھی)۔