كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثنا زهير بن حرب ، حدثنا عمر بن يونس الحنفي ، حدثنا عكرمة بن عمار ، حدثني إياس بن سلمة ، حدثني ابي ، قال: " غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا، فلما واجهنا العدو تقدمت فاعلو ثنية، فاستقبلني رجل من العدو فارميه بسهم فتوارى عني، فما دريت ما صنع ونظرت إلى القوم فإذا هم قد طلعوا من ثنية اخرى، فالتقوا هم وصحابة النبي صلى الله عليه وسلم، فولى صحابة النبي صلى الله عليه وسلم، وارجع منهزما وعلي بردتان متزرا بإحداهما مرتديا بالاخرى، فاستطلق إزاري فجمعتهما جميعا، ومررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم منهزما وهو على بغلته الشهباء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد راى ابن الاكوع فزعا، فلما غشوا رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل عن البغلة ثم قبض قبضة من تراب من الارض ثم استقبل به وجوههم، فقال: شاهت الوجوه فما خلق الله منهم إنسانا إلا ملا عينيه ترابا بتلك القبضة، فولوا مدبرين فهزمهم الله عز وجل، وقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائمهم بين المسلمين ".

‏‏‏‏ سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میرے باپ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کا، جب دشمن کا سامنا ہوا تو میں آگے ہوا اور ایک گھاٹی پر چڑھا، ایک شخص دشمنوں میں سے میرے سامنے آیا میں نے ایک تیر مارا وہ چھپ گیا۔ معلوم نہیں کیا ہوا۔ میں نے لوگوں کو دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے نمودار ہوئے اور ان سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جنگ ہوئی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو شکست ہوئی، میں بھی شکست پا کر لوٹا اور میں دو چادریں پہنے تھا ایک باندھے ہوئے دوسری اوڑھے، میری تہبند کھل چلی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا شکست پا کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکوع کا بیٹا گھبرا کر لوٹا۔ پھر دشمنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سے اترے اور ایک مٹھی خاک زمین سے اٹھائی اور ان کے منہ پر ماری اور فرمایا: بگڑ گئے منہ، پھر کوئی آدمی ان میں ایسا نہ رہا جس کی آنکھ میں خاک نہ بھر گئی ہو اس ایک مٹھی کی وجہ سے، آخر وہ بھاگے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال بانٹ دئیے مسلمانوں کو۔

صحيح مسلم # 4619
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp