كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثنا علي بن الحسين بن سليمان الكوفي ، حدثنا عبدة ، عن هشام بهذا الإسناد نحوه غير انه، قال: فانفجر من ليلته فما زال يسيل حتى مات، وزاد في الحديث قال: فذاك حين يقول الشاعر: الا يا سعد سعد بني معاذ فما فعلت قريظة، والنضير لعمرك إن سعد بني معاذ غداة تحملوا لهو الصبور تركتم قدركم لا شيء فيها وقدر القوم حامية تفور، وقد قال الكريم ابو حباب: اقيموا قينقاع ولا تسيروا وقد كانوا ببلدتهم ثقالا كما ثقلت بميطان الصخور.

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ زخم اسی رات کو جاری ہو گیا اور جاری رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ اتنا زیادہ ہے کہ شاعر نے اسی بابب میں یہ تین شعر کہے ان کا ترجمہ یہ ہے۔ اے سعد بیٹے معاذ کے قریظہ اور نضیر کیا ہوئے؟ قسم تیری عمر کی کہ سعد جس صبح کو تم مصیبت اٹھا رہے ہو خاموش ہے، اے اوس (جو خلفاء تھے قریظہ کے) تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی اور قوم کی ہانڈی (یعنی خزرج دوسرے قبیلہ کی) گرم ہے، ابل رہی ہے، نیک نفس ابوحباب نے (عبداللہ بن ابی بن سلول منافق نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قینقاع کے یہود کی سفارش کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سفارش قبول کی) کہہ دیا ٹھہرے رہو، قینقاع والو! اور مت جاؤ حالانکہ وہ لوگ شہر میں ایسے ذلیل تھے جیسے میطان (ایک پہاڑ کا نام ہے) میں پتھر ذلیل ہیں۔ غرض اس سے یہ ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ بنی قریظہ کی سفارش پر مستعد ہوں اور ان کو بچائیں۔

صحيح مسلم # 4601
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp