كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

حدثنا ابو كريب ، حدثنا ابن نمير ، عن هشام ، اخبرني ابي ، عن عائشة " ان سعدا قال: وتحجر كلمه للبرء، فقال: اللهم إنك تعلم ان ليس احد احب إلي ان اجاهد فيك من قوم كذبوا رسولك صلى الله عليه وسلم واخرجوه، اللهم فإن كان بقي من حرب قريش شيء فابقني اجاهدهم فيك، اللهم فإني اظن انك قد وضعت الحرب بيننا وبينهم فإن كنت وضعت الحرب بيننا وبينهم فافجرها، واجعل موتي فيها، فانفجرت من لبته، فلم يرعهم وفي المسجد معه خيمة من بني غفار إلا والدم يسيل إليهم، فقالوا: يا اهل الخيمة ما هذا الذي ياتينا من قبلكم؟، فإذا سعد جرحه يغذ دما فمات منها "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم سوکھ گیا اور اچھا ہونے کو تھا۔ انہوں نے دعا کی، یا اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے سے ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا کوئی چیز زیادہ پسند نہیں ہے یا اللہ! اگر قریش کی لڑائی ابھی باقی ہو تو مجھے زندہ رکھ، میں ان سے جہاد کروں گا۔ یا اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ان کی لڑائی تو نے ختم کر دی! اگر ایسا ہے تو اس زخم کو کھول دے اور میری موت اسی میں کر (یہ آرزو ہے شہادت کی اور موت کی آرزو نہیں ہے جو منع ہے) پھر وہ زخم بہنے لگا، ہنسلی کے مقام سے یا گردن سے یا اسی رات کو بہنے لگا (یہ جب ہے کہ حدیث میں «من ليلة» ہو۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: یہی صحیح ہے) اور لوگ نہیں ڈرے مگر مسجد میں ان کے ساتھ ایک خیمہ تھا بنی غفار کا، خون اس طرف بہنے لگا تب وہ بولے، اے خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے آ رہا ہے (معلوم ہوا کہ سعد کا زخم بہہ رہا ہے) آخر اسی زخم میں فوت ہوئے (اور اللہ تعالیٰ نے شہادت دی)۔

صحيح مسلم # 4600
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp