كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن المثنى ، وابن بشار والفاظهم متقاربة، قال ابو بكر حدثنا غندر، عن شعبة، وقال الآخران حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن سعد بن إبراهيم ، قال: سمعت ابا امامة بن سهل بن حنيف، قال: سمعت ابا سعيد الخدري ، قال: " نزل اهل قريظة على حكم سعد بن معاذ فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى سعد فاتاه على حمار، فلما دنا قريبا من المسجد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للانصار: " قوموا إلى سيدكم او خيركم، ثم قال: إن هؤلاء نزلوا على حكمك، قال: تقتل مقاتلتهم وتسبي ذريتهم، قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قضيت بحكم الله، وربما قال: قضيت بحكم الملك "، ولم يذكر ابن المثنى، وربما قال: قضيت بحكم الملك "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: اٹھو اپنے سردار کی طرف یا اپنی قوم کے بہتر شخص کی طرف۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ بنی قریظہ کے تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔ (قلعہ سے) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں جو لڑائی کے لائق ہیں ان کو تو قتل کیجئیے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کیجئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق یا بادشاہ (اللہ تعالیٰ) کے حکم کے موافق یا فرشتے سیدنا جبرئیل کے حکم کے موافق (جیسا وہ اللہ کی طرف سے لایا تھا) فیصلہ کیا۔

صحيح مسلم # 4596
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp