كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

حدثني محمد بن رافع ، اخبرنا حجين ، حدثنا ليث ، عن عقيل ، عن ابن شهاب ، عن عروة بن الزبير ، عن عائشة ، انها اخبرته ان فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ارسلت إلى ابي بكر الصديق تساله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، مما افاء الله عليه بالمدينة، وفدك وما بقي من خمس خيبر، فقال ابو بكر : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا نورث ما تركنا صدقة "، إنما ياكل آل محمد صلى الله عليه وسلم في هذا المال، وإني والله لا اغير شيئا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها، التي كانت عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولاعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فابى ابو بكر ان يدفع إلى فاطمة شيئا، فوجدت فاطمة على ابي بكر في ذلك، قال: فهجرته فلم تكلمه حتى توفيت وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة اشهر، فلما توفيت دفنها زوجها علي بن ابي طالب ليلا، ولم يؤذن بها ابا بكر، وصلى عليها علي وكان لعلي من الناس وجهة حياة فاطمة، فلما توفيت استنكر علي وجوه الناس، فالتمس مصالحة ابي بكر ومبايعته ولم يكن بايع تلك الاشهر، فارسل إلى ابي بكر ان ائتنا ولا ياتنا معك احد كراهية محضر عمر بن الخطاب، فقال عمر، لابي بكر: والله لا تدخل عليهم وحدك، فقال ابو بكر: وما عساهم ان يفعلوا بي إني والله لآتينهم، فدخل عليهم ابو بكر، فتشهد علي بن ابي طالب، ثم قال: إنا قد عرفنا يا ابا بكر فضيلتك وما اعطاك الله، ولم ننفس عليك خيرا ساقه الله إليك ولكنك استبددت علينا بالامر، وكنا نحن نرى لنا حقا لقرابتنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل يكلم ابا بكر، حتى فاضت عينا ابي بكر، فلما تكلم ابو بكر، قال: والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم، احب إلي ان اصل من قرابتي، واما الذي شجر بيني وبينكم من هذه الاموال، فإني لم آل فيه عن الحق ولم اترك امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيها إلا صنعته، فقال علي، لابي بكر: موعدك العشية للبيعة، فلما صلى ابو بكر صلاة الظهر رقي على المنبر، فتشهد وذكر شان علي وتخلفه عن البيعة وعذره بالذي اعتذر إليه، ثم استغفر وتشهد علي بن ابي طالب، فعظم حق ابي بكر وانه لم يحمله على الذي صنع نفاسة على ابي بكر، ولا إنكارا للذي فضله الله به ولكنا كنا نرى لنا في الامر نصيبا، فاستبد علينا به فوجدنا في انفسنا فسر بذلك المسلمون، وقالوا: اصبت فكان المسلمون إلى علي قريبا حين راجع الامر المعروف،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سیدنا فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے سیدنا ابوبکر صدیق کے پاس کسی کو بھیجا اپنا ترکہ مانگنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مالوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے دئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ اور فدک میں اور جو کچھ بچتا تھا خیبر کے خمس میں سے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اسی مال میں سے کھائے گی۔ اور میں تو قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کو کچھ نہیں بدلوں گا اس حال سے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تھا اور میں اس میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ غرضیکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے۔ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غصہ آیا، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات چھوڑ دی اور بات نہ کی یہاں تک کہ وفات ہوئی ان کی (نووی رحمہ اللہ نے کہا: یہ ترک ملاقات وہ ترک نہیں جو شرع میں حرام ہے اور وہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام نہ کرے یا سلام کا جواب نہ دے) اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چھ مہینے زندہ رہیں۔ (بعض نے کہا: آٹھ مہینے یا تین مہینے یا دو مہینے یا ستر دن۔ بہرحال تین تاریخ رمضان مبارک گیارہ ہجری مقدس کو انہوں نے انتقال فرمایا) جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے خاوند سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کو رات کو دفن کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ کی (اس سے معلوم ہوا کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے اور دن کو افضل ہے اگر کوئی عذر نہ ہو) اور نماز پڑھی ان پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اور تب تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں جب تک لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف مائل تھے (بوجہ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے) جب وہ انتقال کر گئیں تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دیکھا لوگ میری طرف سے پھر گئے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صالح لینا چاہا اور ان سے بیعت کر لینا مناسب سمجھا اور ابھی تک کئی مہنے گزرے تھے، انہوں نے بیعت نہیں کی تھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے۔ تو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور یہ کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے آئیے۔ آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے کیونکہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا آنا ناپسند کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: قسم اللہ کی! تم اکیلے ان کے پاس نہ جاؤ گے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے ساتھ کیا کریں گے قسم اللہ کی! میں تو اکیلا جاؤں گا۔ آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تشہد پڑھا (جیسے خطبہ کے شروع میں پڑھتے ہیں) پھر کہا: ہم نے پہچانا اے ابوبکر! تمہاری فضیلت کو اور جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا اور ہم رشک نہیں کرتے اس نعمت پر جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دی (یعنی خلافت اور حکومت) لیکن تم نے اکیلے اکیلے یہ کام کر لیا اور ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی حق ہے اس میں کیوں کہ ہم قرابت رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر برابر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو کہا: قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا لحاظ مجھ کو اپنی قرابت سے زیادہ ہے اور یہ جو مجھ میں اور تم میں ان باتوں کی بابت (یعنی فدک اور نضیر اور خمس خیبر وغیرہ میں) اختلاف ہوا تو میں نے حق کو نہیں چھوڑا اور میں نے وہ کوئی کام نہیں چھوڑا جس کو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے بلکہ اس کو میں نے کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اچھا آج سہ پہر کو ہم آپ سے بیعت کریں گے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھےاور تشہد پڑھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قصہ بیان کیا اور ان کے دیر کرنے کا بیعت سے اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا وہ بھی کہا۔ پھر دعا کی مغفرت کی اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے تشہد پڑھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضلیت بیان کی اور یہ کہا کہ میرا دیر کرنا بیعت میں اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر شک ہے یا ان کی بزرگی اور فضیلت کا مجھے انکار ہے بلکہ ہم سمجھتے تھے کہ اس خلافت میں ہمارا بھی حصہ ہے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اکیلے بغیر صلاح کے یہ کام کر لیا اس وجہ سے ہمارے دل کو یہ رنج ہوا۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہوئے اور سب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے ٹھیک کام کیا۔ اس روز سے مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف پھر مائل ہو گئے جب انہوں نے واجبی امر کو اختیار کیا۔

صحيح مسلم # 4580
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp